السلام علیکم!اگر آپ کو یہ فورم پسند ہے یا آپ یہاں کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو ممبر بننے کے لئے یہاں کلک کریں
+ موضوع کا جواب بھیجیں
نتائج کی نمائش 1 تا: 7 از: 7

موضوع: نفلی روزوں کا حُکم اور ہفتہ کا روزہ

  1. #1
    رکن علماء کمیٹی عادل سہیل is on a distinguished road
    تاریخ شمولیت
    Sep 2010
    پیغامات
    218

    Lightbulb نفلی روزوں کا حُکم اور ہفتہ کا روزہ

    ***** نفلی روزوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حُکم اور ہفتہ کا روزہ *****

    ***** نفلی روزوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حُکم *****
    نفلی روزوں کے معاملے میں ایک بہت ہی اہم بات جو ہمیں اچھی طرح سمجھنا چاہیئے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حُکم ہے ( لاتصوموا یومَ السبت اِلَّا فیمَا افتُرض َ علیکُم فاِن لم یَجِدَ احدکُم اِلَّا عُودَ عِنَبٍ او لَحَاءَ شجرۃٍ فَلیَمُصّہُ )( ہفتے کے دِن کا روزہ مت رکھو ، سوائے فرض روزے کے ، اگر تُم سے کِسی کو انگور کی چھال یا درخت کی جڑ کے عِلاوہ اور کُچھ نہ ملے تو اسی کو چُوس لو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِن الفاظ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہفتے کے دِن کے روزے کی ممانعت کِس قدر شدید ہے کہ اگر درخت کی چھال یا جڑ چُوس کر ہی افطار کرنا پڑے تو بھی حالتِ افطار میں رہنا چاہئیے ، روزہ نہیں رکھنا چاہیئے ، سوائے فرض یعنی رمضان کے روزں کے ۔
    یہ حدیث عبداللہ بن بُسر ، الصَّمَّاءُ بنت بُسر ، بُسر بن ابی بُسر المازنی ، اور ابی اُمامہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے مُندرجہ ذیل کتابوں میں روایت کی گئی ہے ،
    صحیح ابن خزیمہ/ حدیث /٢١٦٤ ، مُستدرک الحاکم/١٥٩٢ ، اِمام الحاکم نے کہا کہ یہ حدیث بُخاری کی شرط کے مُطابق صحیح ہے ، سُنن ابو داؤد/حدیث /٢٤١٨ ، سُنن ابن ماجہ/حدیث /١٧٦٦ ، سُنن الترمذی/حدیث /٧٤٤ ، مُسند احمد ٦/ ٣٦٨ ، سُنن الدارمی/حدیث/١٧٤٩ ، سُنن البیہقی/٤/ ٣٠٢ ، مُسند عبد بن حمید/حدیث/٥٠٧ ، اِمام ابو نعیم نے '' الحُلیۃ الاولیاء '' میں ، اِمام خطیب بُغدادی نے '' تاریخ '' میں اِمام الضَّیاء المقدسی نے '' الاحادیث المُختارۃ '' میں ، اِمام الدَّولابی نے '' الکُنی '' میں ، اِمام ابنِ عساکر نے اپنی '' تاریخ '' میں اِمام ابو زرعۃ الدمشقی نے اپنی '' تاریخ '' میں ، اِمام ابن الاثیر نے '' اُسد الغابہ '' میں ، اِمام البغوی نے '' شرح السُنّۃ '' میں روایت کیا ، اور اِس کے عِلاوہ بھی یہ حدیث بہت سی دیگر کتابوں میں مُختلف اسناد کے ساتھ موجود ہے شیخ علی بن حسن نے اپنی کتاب '' زَہر الرَّوض فی حُکم صِیام یَوم السَّبت فی غیر الفَرض '' میں اِس کی مُکمل تحقیق اور تخریج کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس حُکم کو ٹالنے یا بدلنے یا خاص اور عام کرنے کی کوئی دلیل نہیں ، تفصیلات جاننے کے خواہش مند اِس کتاب کا مطالعہ کر سکتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عطاء کردہ توفیق سے میں نے بہت سے مُفید اضافوں کے ساتھ اِس کتاب کا ترجمہ کیا ہے جو تقریباً مکمل ہونے والا ہے ، اِنشاء اللہ تکمیل کے بعد اِس کی اشاعت و نشر کا انتظام کیا جائے گا ۔
    ***** بھائیوں ، بہنوں ، مندرجہ بالا صحیح حدیث کی روشنی میں کوئی بھی نفلی روزہ ہفتے کے دِن رکھنا جائز نہیں ، آپ صاحبان شوال کے روزے رکھتے ہوئے اور کوئی بھی نفلی روزہ رکھتے ہوئے اِس بات کو کبھی نہ بھولئیے گا اور اپنے ساتھ ساتھ اپنے دوسرے مُسلمان بھائی بہنوں کو بھی بتائیے تا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حُکم کی نافرمانی کا شکار نہ ہوں ۔
    السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ، طلبگارِ دُعا ، عادل سہیل ظفر

  2. مندرجہ ذیل 2 صارفین نے عادل سہیل کا اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے:


  3. #2
    اقتباس اصل پیغام ارسال کردہ از: عادل سہیل پیغام دیکھیے
    ***** نفلی روزوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حُکم *****
    نفلی روزوں کے معاملے میں ایک بہت ہی اہم بات جو ہمیں اچھی طرح سمجھنا چاہیئے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حُکم ہے ( لاتصوموا یومَ السبت اِلَّا فیمَا افتُرض َ علیکُم فاِن لم یَجِدَ احدکُم اِلَّا عُودَ عِنَبٍ او لَحَاءَ شجرۃٍ فَلیَمُصّہُ )( ہفتے کے دِن کا روزہ مت رکھو ، سوائے فرض روزے کے ، اگر تُم سے کِسی کو انگور کی چھال یا درخت کی جڑ کے عِلاوہ اور کُچھ نہ ملے تو اسی کو چُوس لو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِن الفاظ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہفتے کے دِن کے روزے کی ممانعت کِس قدر شدید ہے کہ اگر درخت کی چھال یا جڑ چُوس کر ہی افطار کرنا پڑے تو بھی حالتِ افطار میں رہنا چاہئیے ، روزہ نہیں رکھنا چاہیئے ، سوائے فرض یعنی رمضان کے روزں کے ۔
    یہ حدیث عبداللہ بن بُسر ، الصَّمَّاءُ بنت بُسر ، بُسر بن ابی بُسر المازنی ، اور ابی اُمامہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے مُندرجہ ذیل کتابوں میں روایت کی گئی ہے ،
    صحیح ابن خزیمہ/ حدیث /٢١٦٤ ، مُستدرک الحاکم/١٥٩٢ ، اِمام الحاکم نے کہا کہ یہ حدیث بُخاری کی شرط کے مُطابق صحیح ہے ، سُنن ابو داؤد/حدیث /٢٤١٨ ، سُنن ابن ماجہ/حدیث /١٧٦٦ ، سُنن الترمذی/حدیث /٧٤٤ ، مُسند احمد ٦/ ٣٦٨ ، سُنن الدارمی/حدیث/١٧٤٩ ، سُنن البیہقی/٤/ ٣٠٢ ، مُسند عبد بن حمید/حدیث/٥٠٧ ، اِمام ابو نعیم نے '' الحُلیۃ الاولیاء '' میں ، اِمام خطیب بُغدادی نے '' تاریخ '' میں اِمام الضَّیاء المقدسی نے '' الاحادیث المُختارۃ '' میں ، اِمام الدَّولابی نے '' الکُنی '' میں ، اِمام ابنِ عساکر نے اپنی '' تاریخ '' میں اِمام ابو زرعۃ الدمشقی نے اپنی '' تاریخ '' میں ، اِمام ابن الاثیر نے '' اُسد الغابہ '' میں ، اِمام البغوی نے '' شرح السُنّۃ '' میں روایت کیا ، اور اِس کے عِلاوہ بھی یہ حدیث بہت سی دیگر کتابوں میں مُختلف اسناد کے ساتھ موجود ہے شیخ علی بن حسن نے اپنی کتاب '' زَہر الرَّوض فی حُکم صِیام یَوم السَّبت فی غیر الفَرض '' میں اِس کی مُکمل تحقیق اور تخریج کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس حُکم کو ٹالنے یا بدلنے یا خاص اور عام کرنے کی کوئی دلیل نہیں ، تفصیلات جاننے کے خواہش مند اِس کتاب کا مطالعہ کر سکتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عطاء کردہ توفیق سے میں نے بہت سے مُفید اضافوں کے ساتھ اِس کتاب کا ترجمہ کیا ہے جو تقریباً مکمل ہونے والا ہے ، اِنشاء اللہ تکمیل کے بعد اِس کی اشاعت و نشر کا انتظام کیا جائے گا ۔
    ***** بھائیوں ، بہنوں ، مندرجہ بالا صحیح حدیث کی روشنی میں کوئی بھی نفلی روزہ ہفتے کے دِن رکھنا جائز نہیں ، آپ صاحبان شوال کے روزے رکھتے ہوئے اور کوئی بھی نفلی روزہ رکھتے ہوئے اِس بات کو کبھی نہ بھولئیے گا اور اپنے ساتھ ساتھ اپنے دوسرے مُسلمان بھائی بہنوں کو بھی بتائیے تا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حُکم کی نافرمانی کا شکار نہ ہوں ۔
    السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ، طلبگارِ دُعا ، عادل سہیل ظفر
    یہ بھی فاضل مؤلف کا سہو عظیم ہے
    ہفتہ کے دن کا رزوہ انفرادی طور پر ممنوع ہے جیسا کہ جمعہ کا اکیلا روزہ ممنوع ہے
    اگر جمعہ اور ہفتہ دونوں دن کا روزہ نفلی رکھ لیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں
    ملاحظہ فرمائیں
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَصُومَنَّ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا يَوْمًا قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ
    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ کوئی شخص بھی جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھے الا کہ وہ اس سے ایک دن قبل یا ایک دن بعد کا روزہ بھی رکھے
    صحیح بخاری کتاب الصوم باب صوم یوم الجمعۃ ....... ح ۱۹۸۵
    اس حدیث سے واضح ہو رہا ہے کہ جمعہ کے دن اور اسکے بعد والے دن یعنی ہفتہ کے دن کا روزہ بھی رکھ لیا جائے تو یہ جائز ہے
    اکیلے جمعہ دن کے روزہ کی ممانعت اس حدیث میں مذکور ہے اور اکیلے ہفتہ کے دن کی ممانعت موصوف کی ذکر کردہ روایت میں ہے
    دونوں کو ملا کر رکھنے کے جواز کی دلیل صحیح بخاری کی مذکورہ بالا روایت میں موجود ہے
    خوب سمجھ لیں

  4. مندرجہ ذیل 5 صارفین نے رفیق طاھر کا اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے:


  5. #3
    رکن علماء کمیٹی عادل سہیل is on a distinguished road
    تاریخ شمولیت
    Sep 2010
    پیغامات
    218

    Lightbulb

    اقتباس اصل پیغام ارسال کردہ از: رفیق طاھر پیغام دیکھیے
    یہ بھی فاضل مؤلف کا سہو عظیم ہے
    ہفتہ کے دن کا رزوہ انفرادی طور پر ممنوع ہے جیسا کہ جمعہ کا اکیلا روزہ ممنوع ہے
    اگر جمعہ اور ہفتہ دونوں دن کا روزہ نفلی رکھ لیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں
    ملاحظہ فرمائیں
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَصُومَنَّ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا يَوْمًا قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ
    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ کوئی شخص بھی جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھے الا کہ وہ اس سے ایک دن قبل یا ایک دن بعد کا روزہ بھی رکھے
    صحیح بخاری کتاب الصوم باب صوم یوم الجمعۃ ....... ح ۱۹۸۵
    اس حدیث سے واضح ہو رہا ہے کہ جمعہ کے دن اور اسکے بعد والے دن یعنی ہفتہ کے دن کا روزہ بھی رکھ لیا جائے تو یہ جائز ہے
    اکیلے جمعہ دن کے روزہ کی ممانعت اس حدیث میں مذکور ہے اور اکیلے ہفتہ کے دن کی ممانعت موصوف کی ذکر کردہ روایت میں ہے
    دونوں کو ملا کر رکھنے کے جواز کی دلیل صحیح بخاری کی مذکورہ بالا روایت میں موجود ہے
    خوب سمجھ لیں
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
    الحمد للہ و لہ الکمال و العِصمۃ للأنبیاء علیھم السلام ،
    کمال اللہ کے لیے ہی ہے اور عِصمت انبیاء علیھم السلام کے لیے ،
    سھو ہر انسان سے ہونا عین ممکن ہے ،
    جزاک اللہ خیرا بھائی رفیق طاہر صاحب کہ آپ نے میرے لکھے ہوئے کو سھو سے تعبیر فرمایا ، لیکن الحمد للہ ، ثُم الحمد للہ ، ثُم الحمد للہ اس موضوع میں بھی مجھے اللہ نے کسی سھو کے سرزد ہونے سے محفوظ رکھا ہے ،
    محترم بھائی رفیق طاہر صاحب ، اللہ تبارک و تعالیٰ کے اپنے اِس ضعیف بندے پر ان گنت انعامات ہیں ، جن کا میں اپنی زندگی کے ہر لحظے میں شکر ادا کرتا رہوں تو بھی ادا ہونے والا نہیں ،
    ان انعامات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ میں دین کے بارے کوئی بھی بات اپنی ز ُبان یا قلم سے ادا کرنے سے پہلے ، اس کے بارے میں اللہ کے عطاء کردہ تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے چھان بین کرلیتا ہوں ،
    کئی سال پہلے ہفتے کے دن نفلی روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں امام ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ کے ایک شاگرد رشید شیخ علی بن حسن حفظہ اللہ کے ساتھ ہماری کافی بحث ہوئی تھی ، وہ اس وقت حج کے لیے اردن سے تشریف لائے تھے اور جدہ میں کچھ دیر کے لیے ہمارے ایک استاد کے گھر رکے تھے ، اس سال یوم عرفات کا روزہ ہفتے کو آ رہا تھا ، اور اس وجہ سے ہم سب طالب علموں کے درمیان کافی بحث چل رہی تھی ، روزہ رکھنے کے موافیقن نے شیخ علی سے بحث کی ان کے جوابات کے بعد وہ سب مطمئن ہو گئے کہ ہفتے کا نفلی روزہ نہیں رکھا جا سکتا ،
    شیخ علی نے اپنی واپسی کے بعد اس موضوع پر ایک مختصر اور جامع کتاب نشر کی ، میں نے جنوری 2004 میں اس کتاب کا ترجمہ کیا اور اپنی ای میلز کے جواب میں وارد ہونے والی بحث اور زبانی گفتگو کی روشنی میں اس میں کافی اضافے کیے ،
    آپ کی لکھی ہوئی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث کے بارے میں بھی اس میں جواب موجود تھا ، وہاں سے جوں کا توں یہاں نقل کر رہا ہوں ،
    اس میں میں نے اپنی بات ]]] [[[ میں ظاہر کی ہے اور آخر میں اپنا نام بھی لکھا ہے ، باقی بات شیخ علی بن حسن حفظہ ُ اللہ کی ہے ،
    اللہ تبارک و تعالیٰ تمام قارئین کے لیے خیر کا سبب بنائے ، اور ہم سب کو درست بات کسی ضد کے بغیر ماننے اور اپنانے کی ہمت دے ،
    =========================
    (3) أبو ہُریرہ (رضی اللہ عنہ ُ ) کی روایت ( اور اِن دونوں روایات کی تخریج صفحہ نمبر ۴۶ ، ۴۷ پر بیان کی جا چکی ہے ، [[[یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں اور لے دے کے یہ ہی دو حدیثیں ایک طاقتور مخالفت کا تصور پیدا کرتی ہیں ، اِس مسئلے کے حل کو مکمل طور پر جاننے کے لیے وقتی طور پر یہ مان لیا جائے کہ واقعتا یہ دونوں حدیثیں ممانعت والی حدیث کی مخالف ہیں تو بھی]]]، ان دونوں حدیثوں میں سے زیادہ سے زیادہ ہفتے کا نفلی روزہ رکھنے کا جواز ہی نکلتا ہے اور کچھ نہیں ،
    [[[ زیادہ واضح الفاظ میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ ’’’’ اِن أحادیث میں زیادہ سے زیادہ ہفتے کو نفلی روزہ رکھنے کا جواز ، یا اِجازت ہے اور وہ بھی اُس کے لیے جِس نے صرف جمعہ کا نفلی روزہ رکھا ہو ، تا کہ وہ صرف جمعہ کے نفلی روزے کی ممانعت کی خلاف ورزی کے گناہ کا شکار ہونے سے بچ جائے ، اور اِس جواز کو مجرد ہفتے کی شمولیت پر ہی نہیں چھوڑا گیا بلکہ ہفتے اور جمعرات میں سے کوئی ایک دِن أختیار کرنے کی اِجازت دِی گئی ہے ، یعنی ہفتے کے دِن کا روزہ رکھنے کا جواز مشروط ہے اور شرط ہے کہ اُس سے پہلے جمعے کا روزہ رکھا گیا ہو ‘‘‘‘ اور یہ جواز برقرار رہے گا یا نہیں اور جواز اور ممانعت کی صورت میں کیا أختیار کیا جائے گا اِن باتوں کی تفصیل اِن شاء اللہ آگے آئے گی ، لیکن بہتر محسوس ہوتا ہے کہ آگے چلنے سے پہلے ہم علم الأصول میں مقرر شدہ قوانین کے مطابق یہ سمجھ لیں کہ شرط کیا ہے ؟
    """ شرط""" علم أصول میں أحکام وضعیہ میں شمار ہوتی ہے ، میں اپنے جیسے طالب علموں کے لیے یہاں """ شرط کی تعریف نقل کرتا ہوں تا کہ ہمارے لیے فائدہ مند ہو اور اِس یا اور کِسی مسئلے کو سمجھنے میں ہمارے لئیے مدد گار ہو ، باِذن اللہ تعالیٰ ، إمام الشوکانی ، ’’’ ارشاد الفحول ‘‘‘ میں لکھتے ہیں کہ :::
    """"" و الشرط : ھو الحُکم علی الوصف بکونہِ شرطاً للحُکم ، و حقیقۃُ الشرط :: ھو ما کان عدمہ ُ یستلزم عدم الحُکم فھو وصفٌ ظاہرٌ مُنبضطٌ ، یستلزمُ ذلک أو یستلزم عدم السبب ، لحکمۃ فی عدمہِ ، تنافي حکمۃ الحُکم أو السبب ، ،،،،،،"""""
    ( الفصل الثانی مِن مقدمۃ الکتاب )
    منقولہ بالا عبارت کا ترجمہ""""" شرط ::: وہ حُکم ہے جِس کی موجودگی کِسی (کام یا )حُکم کے قائم ہونے کے لیے ضروری ہے ، اور اِسکی حقیقت یا تفصیل یہ ہے کہ شرط وہ ہے جِس کا معدوم ہونا حُکم کے معدوم ہونے کو لازم کرتا ہے ، پس شرط ظاہری وصف ہے جو یا تو حُکم کو لازم کرتا ہے یا حُکم کے سبب کو معدوم کرتا ہے (یعنی حُکم کو زائل کر تا ہے ) کیونکہ اِسکی حکمت یہی ہے کہ وہ حُکم یا سبب حُکم کی حکمت کی نفی کرتا ہے """""
    اور اِس ممانعت والی حدیث کے اِلفاظ ((((( إِلّا فِیما اُفترض علیکم:::سوائے اُس کے جو تُم پر فرض کیا گیا ہے ))))) سے شرط معدوم ہوتی ہے لہذا حُکم بھی معدوم ہو جاتا ہے ، کچھ تفصیل آگے إمام ابن القیم رحمہُ اللہ کے ایک قول میں آئے گی اِن شاء اللہ ۔ تو بہر صورت یہ بات یقینی ہے کہ اُم المؤمنین جویریہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا اور أبو ہُریرہ رضی اللہ عنہ ُ والی دونوں أحادیث(حدیثیں )ہفتے کو نفلی روزہ رکھنے کے مشروط جواز سے زیادہ اِس موضوع پر کچھ اور دلیل نہیں رکھتی اور ہفتے کو نفلی روزہ نہ رکھنے والی حدیث میں ممانعت بنص صریح و قولی اور عام ہے ۔
    اب ہم اِس موضوع کی طرف آتے ہیں کہ اگر کِسی کام کے بارے میں جواز اور ممانعت دونوں ہی حُکم صحیح سندوں کے ساتھ ملتے ہوں تو اِس صورت میں جواز اور ممانعت میں سے کِس کو أختیار کیا جائے گا اور اُس پر عمل کیا جائے گا ،
    فقہ کے قواعد و أصول میں یہ مقرر ہے کہ ’’’ اِذا تعارض الحاضرُ المبیحَ فلیؤخذ الحاضر و یُترَک المبیح ‘‘‘ یعنی ’’’ اگر ممانعت کا حُکم اور جواز کا حُکم ایک دوسرے سے ٹکراتے ہوں تو ممانعت والے حُکم پر عمل کیا جائے گا اور جواز والے کو ترک کر دیا جائے گا ‘‘‘اِس أصول کی دلیل رسول الل صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ایک حدیث مبارک ہے ، جِس کا ذِکر ابھی چند سطر کے بعد کِیا جائے گا اِن شاء اللہ ۔ عادِل [[[
    چونکہ (اُم المؤمنین) جویریہ بنت الحارث (رضی اللہ عنہا ) اور أبو ہُریرہ (رضی اللہ عنہ ُ ) والی دونوں أحادیث میں زیادہ سے زیادہ ہفتے کو نفلی روزہ رکھنے کا جواز ہی ملتا ہے ، تو ایسی صورت میں جواز پر عمل نہیں کیا جائے گا بلکہ ممانعت پر عمل کیا جائے گیا ،
    کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے حُکم دِیا ہے کہ((((( إِذا أمرتُکُم بِأمر ٍ فأتوا مِنہ ُ ماأستطعتُم ، و إِذا نھیتُکُم عَن أمر ٍ فأنتھوا ::: جب میں تمہیں کوئی کام کرنے کا حُکم دوں تو اپنی طاقت و قدرت کے مطابق اُس پر عمل کرو اور جب میں تمہیں کِسی کام کے کرنے سے منع کروں تو اُسے کرنے سے باز آ جاؤ )))))عن أبی ہُریرہ ، صحیح البخاری ، حدیث 7288 ، صحیح مسلم ، حدیث1377،
    [[[ اِس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ألفاظ ہمیں صاف صاف سمجھا رہے ہیں کہ ممانعت کے حُکم (نہی) میں کوئی أختیار نہیں ، اُس پر عمل کرنا ہی کرنا ہے اور منع شدہ کام سے باز آنا ہی ہے اِس میں اپنی أستطاعت (طاقت و قدرت )کے مطابق عمل کرنے کی بھی گنجائش نہیں جیسا کہ کِسی کام کو کرنے کے حُکم ( أمر )پر عمل کرنے میں اپنی أستطاعت کے مطابق کرنے کی نرمی دی گئی ہے ،
    تو کیا صاف صریح ممانعت مشروط جواز اور أختیار کے خلاف ہوتی ہے ؟ ہر گِز نہیں ، أختلاف أحادیث میں نہیں بلکہ اپنے فہم میں ہے یا یہ کہیے کہ اپنے محدود فہم میں ہے ، اور جب کوئی أختلاف نہیں تو پھر ناسخ اور منسوخ کی طرف دوڑ لگانے کی قطعا ً کوئی ضرورت نہیں جیسا کہ علم الاصول میں مقرر ہے ۔ عادِل ]]]
    ممانعت کے حُکم (نہی) کو کام کرنے کے حُکم ( أمر )پر فوقیت دینا صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی ثابت ہے ، إمام الطیالسی اپنی مُسنَد میں روایت کرتے ہیں کہ """"" عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے کِسی نے پوچھا کہ اگر کوئی جمعہ کو روزہ رکھنے کی منّت (نذر )مان لے تو اُسکا کیا حُکم ہے ؟ ،
    تو عبد اللہ رضی اللہ عنہ ُ نے جواب دِیا ((((( ہمیں منّت ( نذر ) پوری کرنے کا حُکم دِیا گیا ہے اور جمعہ کا روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے ))))) ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اِس جواب سے صاف ظاہر ہے کہ وہ ممانعت کے حُکم (نہی)کو کام کرنے کے حُکم ( أمر )پر فوقیت دے رہے ہیں کیونکہ نہی میں کوئی أختیار نہیں ۔
    [[[لہذا اِن أحادیث میں جو أختلاف نظر آتا ہے وہ صرف اور صرف جمعہ کے نفلی روزہ کے ساتھ ملائے جانے والے دِن کے أختیار میں ہے ، یعنی ، جمعہ کے دِن کا نفلی روزہ رکھنے والا اپنے اِس روزے کے ساتھ کون سا دِن ملا سکتا ہے ، اور یہ بات حُکم رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے واضح ہو چکی کہ ممانعت کے حُکم (نہی)میں کوئی أختیار نہیں تو پھر جمعہ کا نفلی روزہ رکھنے والے کے لئیے فقط جمعرات کا أختیار ہی باقی رہتا ہے ۔
    گو کہ اِس وضاحت کے بعد مزید کِسی بات کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی لیکن کچھ شبہات کا جواب دینا اِن شاء اللہ بہتر ہو گا کیونکہ ممکن ہے کِسی پڑہنے والے کے ذہن میں’’’تخصیص مِن العام ‘‘‘ یا ’’’ حمل المطلق علی المقید ‘‘‘ یا ’’’ الاستثناء مِن الجِنس ‘‘‘ یا ’’’أستدلال مِن المنطوق أو مِن المفہوم ‘‘‘ یا ’’’ راجح و المرجوح ‘‘‘ جیسے قواعد کی بنا پر کچھ خیالات یا شبہات آئیں ، تو پیشگی عرض ہے کہ ،
    ان أحادیث پر ’’’ تخصیص مِن العام ‘‘‘ یا ’’’ حمل المطلق علی المقید ‘‘‘ یا ’’’ الاستثناء مِن الجِنس ‘‘‘ کی بحث وارد نہیں ہوتی ہاں ایک اور شبہہ وارد ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ ’’’ ہفتے کے روزے کی ممانعت جمعہ کے روزے جیسی ہے ، پس اگر ہفتے کے ساتھ کوئی اور دِن ملا لیا جائے تو ممانعت نہیں رہتی ‘‘‘
    إمام ابن القیم رحمہ ُ اللہ ’’’ تھذیب السنن ‘‘‘ میں اِس مندرجہ بالا شبہے کا ذِکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’’’یہ بات بڑی اچھی ہوتی اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا قول ((((( لاتصوموا یومَ السبت اِلَّا فیمَا افتُرض َعلیکُم ::: ہفتے کے دِن کا روزہ مت رکھو ، سوائے فرض روزے کے ))))) نہ ہوتا ، یہ قول صاف منع کرتا ہے کہ ہفتے کے دِن کا نفلی روزہ نہیں رکھا جائے گا ، أکیلا یا کِسی اور دِن کے ساتھ مِلا کر ، کیونکہ فرض روزے کی شرط اِس بات کی دلیل ہے کہ سوائے فرض روزے کے ہر روزہ ممنوع ہے ، اگر ممانعت صرف أکیلے ہفتے کے روزے کی ہوتی اور کِسی اور دِن کو ساتھ مِلانے سے یہ ممانعت دور ہونے والی ہوتی تو پھر حدیث کے ألفاظ یوں ہوتے ((((( لاتصوموا یومَ السبت اِلَّا أن تصوموا یوماً قبلہ ُ أو یوماً بعدہ ُ ))))) جیسا کہ جمعہ (کے أکیلے ر وزے ) کی ممانعت والی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا ہے ، لیکن جب (ہفتے کو روزہ رکھنے کی ) أجازت صرف فرض روزے کے لئیے دی گئی ہے تو یہ بالکل واضح ہو گیا کہ فرض روزے کے عِلاوہ ہر روزے پر یہ نہی لاگو ہوتی ہے ‘‘‘‘
    ممکن ہے منطوق و مفہوم کی بحث میں داخل ہو کر کِسی حد تک یہ کوشش کی جائے کہ ہفتے کو نفلی روزہ رکھنا ممنوع نہیں تو اِس کے جواب میں کچھ کہنے سے پہلے میں آپ کے سامنے منطوق و مفہموم کی تعریف نقل کرتا ہوں ، إمام محمد بن علی بن محمد الشوکانی رحمہ ُ اللہ ’’’ اِرشاد الفحول ‘‘‘ میں لکھتے ہیں:::::
    """"" فالمنطوق ُ :: ما دلّ علیہ اللفظُ فی محل النُّطق ، أي : یکونُ حُکماً للمذکورِ و حالاً مِن أحوالِہِ ، والمفھُوم : ما دلَّ علیہِ اللفظُ لا فی محل النُّطق ،أي : یکونُ حُکماً لغیر المذکورِ و حالاًً مِن أحوالِہ ِ والحاصلُ أن الألفاظُ قوالبُ للمعانی المستفادۃ منھا ، فتارۃً تُستفادُ مِنھا مِن جھۃ النُّطق تصریحاً و تارۃً مِن جھتہِ تلویحاً ، فالأولُ :: المنطوق ُ ، و الثاني ::: المفھوم ::: (الباب الثامن مِن المقصد الرابع )
    مندرجہ بالا عبارت کا ترجمہ ::: منطوق وہ ہے ::: جِس پر کوئی لفظ اپنے بولے جانے کی بنا پر ظاہر و صریح دلالت کرتا ہو ،، یعنی ،، منطوق میں جِس کا ذِکر ہوتا ہے وہ اُس مذکور (ذِکر شدہ چیز )کے لیے کوئی حُکم رکھتا ہے ،، یا ،، اُس مذکور کے أحوال میں سے کِسی حال کو ظاہر کرتا ہے ، اور مفہوم ::: وہ ہے ::: جِس پر کوئی لفظ اپنے بولے جانے کی بنا پر کوئی ظاہر و صریح دلالت نہ کرتا ہو ،، یعنی ،، مفہوم بولے جانے والے لفظ میں مذکور ( ذِکر شدہ چیز ) کے عِلاوہ کِس اور کیے لیے حُکم رکھتا ہے ،، یا ،، اُس مذکور کے عِلاوہ کِسی اور کے أحوال میں سے کِسی حال کو ظاہر کرتا ہے ،
    حاصلِ کلام ::: الفاظ اپنے اندر پائے جانے والے معانی(معنی کی جمع )کے لیے سانچے کی حیثیت رکھتے ہیں لہذا الفاظ میں سے جو معانی حاصل کئیے جا تے ہیں ، کبھی تو وہ معانی صریح نطق (بات ، لفظ کی آواز ، کِسی لفظ کو سن کر جو معنی ذہن میں آئے ) سے حاصل کیا جاتا ہے ، اور کبھی دوسرے طور ،، یعنی ،، اِشارۃ ً ، تو پہلی قِسم ہے منطُوق ،،، اور دوسری قِسم ہے مفہوم ،،، """""
    مندرجہ بالا تعریف کی روشنی میں یہ جاننا قطعاً مشکل نہیں کہ ہفتے کے دِن کا نفلی روزہ رکھنے کی ممانعت والی حدیث میں ممانعت صراحت کے ساتھ منطُوق ہے اور حدیث اُم المؤمنین جویریہ اور حدیث أبو ہُریرہ رضی اللہ عنھما میں جو مشروط جواز ہے وہ منطُوق نہیں بلکہ مفہوم سے مأخوذ ہے ، اور کِسی مسئلے پر حُکم منطُوق کے مطابق ہوتا ہے ، مفہوم سے مأخوذ نہیں ، جیسا کہ إمام شمس الدین الذہبی ’’’ مختصر سنن البیہقی ‘‘‘ میں کہتے ہیں :::
    ’’’’ والإستدلال ُ بالمفھومِ لا یَکُون ُ حُجّۃً إِلَّا إِذا سَلِمَ مِن المعارض ‘‘‘ یعنی ’’’ مفہوم کو اُسی صورت میں دلیل بنایا جا سکتا ہے جب کہ اُس کی مخالفت نہ ہو ‘‘‘،
    اب آپ خود ہی بتائیے کہ آپ قواعد و أصول کی روشنی میں صریح منطُوق کے مطابق معاملے کو سمجھیں گے یا مخالف مفہوم کے مطابق ،
    جب دو مخالف نصوص میں جمع (اتفاق )نہ ہو سکے ، تو پھر ناسخ و منسوخ کی طرف جایا جاتا ہے ، اور اگر ناسخ و منسوخ کا تعین بھی نہ ہو سکے تو پھر اُس کے بعد دونوں مخالف نصوص میں سے راجح اور مرجوح کا تعین کیا جاتا ہے اور اِس کے لیئے علماء أصول نے بہت سے قواعد مقرر کر رکھے ہیں ،
    ہمارے اِس موضوع میں تو الحمدُ للہ پہلے مرحلے پر ہی اِن بظاہر مخالف نصوص میں جمع (اتفاق )ہو گیا لہذا ہمیں ناسخ و منسوخ یا راجح و مرجوح کی طرف جانے کی ضرورت نہیں ،
    لیکن ،،،،،،، باذن اللہ مزید تسلی و تشفی کے لئیے اُن قواعد میں سے صرف ایک کا ذِکر کرتا چلوں ، ’’’’أن یکون أحد الحدیثین قولاً و نصاً و الآخرُ یُنسَبُ إِلیہِ استدلالاً و إجتھاداً ، فَیَکُون ُ الأول ُ مُرجحاً ::: اور یہ کہ دو (متعارض )حدیثوں میں سے ایک اگر قولی اور نصی یعنی لفظی طور پر صراحت کے ساتھ کِسی حُکم کی حامل ہو ، اور دوسری سے محض اِجتھاد کی بنیاد پر استدلال کیا جاتا ہو ، تو ایسی صورت میں پہلی والی کو ترجیح دی جائے گی ، کیونکہ وہ واضح قول و نص پر مبنی ہے ‘‘‘‘‘
    مزید تفصیلات کے لیئے ملاحظہ فرمائیے ’’’’ ارشاد الفحول الیٰ تحقیق الحق فی علم الأصول ‘‘‘ للإمام الشوکانی ، ’’’ الجامع لمسائل أصول الفقہ ‘‘‘ للأستاذ، الدکتورعبدالکریم بن علی بن محمد النملۃ ۔ عادل ]]]
    ======================
    بھائی رفیق طاہر صاہر صاحب ، کتاب و سنت ڈاٹ کام کے فورمز میں عید کے مسائل والے تھریڈ میں آپ نے میری ایک تجویز کو شرف قبولیت عنایت فرمایا ہے امید ہے آپ کا یہ اعتراض اس سے پہلے نشر ہوا ہو گا ،
    مزید گفتگو کے لیے ان شاء اللہ ذاتی ای میل پر رابط رکھیں گے ، آج ہماری عید کی چھٹیوں کا آخری دن تھا ، لہذا اب یوں بھی انٹر نیٹ پر آمد و رفت کم اور کم وقت کے لیے رہے گی ، الی ما شاء اللہ ، و السلام علیکم-

  6. اس مفید مراسلہ پر عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا:


  7. #4
    جسطرح " یوم السبت " منطوق ہے اسی طرح "أو یوم بعدہ " بھی منطوق ہی ہے !
    یعنی مفہوم منطوق کے مخالف نہیں ہے !
    اب دو ادلہ میں ظاہر تعارض ہے تو ان میں جمع کیا جائے گا , اور جمع کی صورت میں نے آپکے سامنے بیان کردی ہے
    فتدبر !

  8. مندرجہ ذیل 2 صارفین نے رفیق طاھر کا اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے:


  9. #5
    رکن علماء کمیٹی عادل سہیل is on a distinguished road
    تاریخ شمولیت
    Sep 2010
    پیغامات
    218

    Lightbulb

    اقتباس اصل پیغام ارسال کردہ از: رفیق طاھر پیغام دیکھیے
    جسطرح " یوم السبت " منطوق ہے اسی طرح "أو یوم بعدہ " بھی منطوق ہی ہے !
    یعنی مفہوم منطوق کے مخالف نہیں ہے !
    اب دو ادلہ میں ظاہر تعارض ہے تو ان میں جمع کیا جائے گا , اور جمع کی صورت میں نے آپکے سامنے بیان کردی ہے
    فتدبر !
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
    میرا سابقہ مراسلہ آپ کی مزید توجہ و تدبر کا متقاضی ہے ، فتتدبرھا یا اخی الکریم ، و السلام علیکم۔

  10. مندرجہ ذیل 3 صارفین نے عادل سہیل کا اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے:


  11. #6
    آپکے سابقہ مراسلہ کو میں نے دوبارہ بغور بالاستیعاب پڑھا ہے
    اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو ہفتہ کے مقترن بالجمعہ روزہ کی ممانعت پر دلالت کرتی ہو ۔
    ممانعت والی حدیث عام ہے
    اور جمعہ کے ساتھ ملا کر رکھنے والی روایت اسکے عموم کی تخصیص کر رہی ہے
    اور یہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا عمل بھی ہے
    ملاحظہ فرمائیں :
    حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ كُرَيْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ يَوْمَ السَّبْتِ وَيَوْمَ الْأَحَدِ أَكْثَرَ مِمَّا يَصُومُ مِنْ الْأَيَّامِ وَيَقُولُ إِنَّهُمَا عِيدَا الْمُشْرِكِينَ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أُخَالِفَهُمْ

  12. مندرجہ ذیل 4 صارفین نے رفیق طاھر کا اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے:


  13. #7
    رکن علماء کمیٹی عادل سہیل is on a distinguished road
    تاریخ شمولیت
    Sep 2010
    پیغامات
    218

    Lightbulb

    اقتباس اصل پیغام ارسال کردہ از: رفیق طاھر پیغام دیکھیے
    آپکے سابقہ مراسلہ کو میں نے دوبارہ بغور بالاستیعاب پڑھا ہے
    اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو ہفتہ کے مقترن بالجمعہ روزہ کی ممانعت پر دلالت کرتی ہو ۔
    ممانعت والی حدیث عام ہے
    اور جمعہ کے ساتھ ملا کر رکھنے والی روایت اسکے عموم کی تخصیص کر رہی ہے
    اور یہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا عمل بھی ہے
    ملاحظہ فرمائیں :
    حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ كُرَيْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ يَوْمَ السَّبْتِ وَيَوْمَ الْأَحَدِ أَكْثَرَ مِمَّا يَصُومُ مِنْ الْأَيَّامِ وَيَقُولُ إِنَّهُمَا عِيدَا الْمُشْرِكِينَ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أُخَالِفَهُمْ
    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
    بھائی رفیق طاہر صاحب ، جزاک اللہ خیرا ،
    میرے سابقہ تفصیلی مراسلے( رقم ) میں یہ گذارش مذکور ہے کہ :::
    """ لہذا اِن أحادیث میں جو أختلاف نظر آتا ہے وہ صرف اور صرف جمعہ کے نفلی روزہ کے ساتھ ملائے جانے والے دِن کے أختیار میں ہے ، یعنی ، جمعہ کے دِن کا نفلی روزہ رکھنے والا اپنے اِس روزے کے ساتھ کون سا دِن ملا سکتا ہے ، اور یہ بات حُکم رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے واضح ہو چکی کہ ممانعت کے حُکم (نہی)میں کوئی أختیار نہیں تو پھر جمعہ کا نفلی روزہ رکھنے والے کے لئیے فقط جمعرات کا أختیار ہی باقی رہتا ہے ۔
    گو کہ اِس وضاحت کے بعد مزید کِسی بات کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی لیکن کچھ شبہات کا جواب دینا اِن شاء اللہ بہتر ہو گا کیونکہ ممکن ہے کِسی پڑہنے والے کے ذہن میں’’’تخصیص مِن العام ‘‘‘ یا ’’’ حمل المطلق علی المقید ‘‘‘ یا ’’’ الاستثناء مِن الجِنس ‘‘‘ یا ’’’أستدلال مِن المنطوق أو مِن المفہوم ‘‘‘ یا ’’’ راجح و المرجوح ‘‘‘ جیسے قواعد کی بنا پر کچھ خیالات یا شبہات آئیں ، تو پیشگی عرض ہے کہ ،
    ان أحادیث پر ’’’ تخصیص مِن العام ‘‘‘ یا ’’’ حمل المطلق علی المقید ‘‘‘ یا ’’’ الاستثناء مِن الجِنس ‘‘‘ کی بحث وارد نہیں ہوتی """
    مزید گذارش ہے کہ عموم کی تخصیص کے لیے منسوخ اور ناسخ کی طرح یقینی نہ سہی لیکن کچھ معلومات احکام کے زمانے کی بھی ہونی چاہیے ، کہ پہلے یہ حکم تھا جو عام تھا ، پھر یہ دوسرا حکم آیا جس میں عام کی تخصیص کر دی گئی ،
    یوں بھی میرے محترم بھائی ، عموم و تخصیص ، مطلق و مقید ، اور مستثنیٰ وغیرہ کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت اس وقت محسوس کی جاتی ہے جب دو متعارض نصوص صحیح ثابت شدہ ہوں ، اور دیگر قوانین میں کسی کے مطابق ان میں اتفاق نہ ہوتا ہو ،
    جبکہ یہاں معاملہ ایسا نہیں ہے ، کیونکہ آپ نے جو حدیث نقل فرمائی ہے ، وہ صحیح نہیں ہے ،
    اس کے بارے میں بھی اپنی اسی کتاب میں سے جواب یہاں نقل کر رہا ہوں ،
    ==================================
    ::::: (2) مخالف تصور کی گئی احادیث میں سے دوسری حدیث :::::
    ابن عباس (رضی اللہ عنہ ُ )کے خادم کُریب کا کہنا ہے کہ """ابن عباس اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے چند دوسرے صحابیوں نے مجھے اُم المؤمنین اُم سَلَمہ (رضی اللہ عنہا ) کے پاس یہ پو چھنے کے لیے بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم زیادہ تر کون کون سے دِنوں کا روزہ رکھا کرتے تھے ؟
    میرے پوچھنے پر اُم سَلَمہ (رضی اللہ عنہا ) نے کہا """ ہفتے اور اِتوار کے دِن"""،
    میں نے واپس آکر یہ بات (صحابہ رضی اللہ عنہم)کو بتائی تو گویا کہ اُن سب نے اِس کا اِنکار کِیا اور سب کے سب اُم سَلَمہ (رضی اللہ عنہا )کے پاس پہنچے اور اُن سے کہا کہ ہم نے اِسے آپ کے پاس یہ یہ پوچھنے کے لیے بھیجا تھا اور اِس نے ہمیں واپس آکر بتایا کہ آپ نے یہ یہ کہا ہے ،
    تو اُم المؤمِنین (رضی اللہ عنہا )نے کہا""" اِس نے سچ کہا ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم زیادہ تر ہفتے اور اِتوار کے دِنوں کا روزہ رکھا کرتے تھے ( اور فرمایا کرتے تھے کہ )إِنَّهُمَا يَوْمَا عِيدِ الْمُشْرِكِينَ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أُخَالِفَهُمْ ::: یہ دونوں دِن مُشرکوں کی عیدوں کے دِن ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میں اُن کی مُخالفت کروں(
    یہ حدیث درج ذیل کتب میں مذکور ہے ،
    مُسَند احمد / حدیث ام سلمہ زوج النبی (صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ، و رضی اللہ عنہا) میں سے حدیث رقم 279،
    صحیح ابن خزیمہ /کتاب الصیام /باب 161،
    مُستَدرَک الحاکم /حدیث1593/کتاب الصوم،
    سُنن البیہقی الکبریٰ /کتاب الصوم /باب 122،
    مُعجم الکبیر للطبرانی/حدیث ، ۵۳/۲۸۳،
    [[[معجم الاوسط للطبرانی /من أسمہ علی /حدیث رقم 123، میں عبدالملک بن محمد عن ابیہ ہے ، اس میں بھی یہ محمدبن عمر بن علی ہی ہے ۔عادل ]]]
    اور إمام ابن شاہین کی " الناسخ الحدیث و منسوخہ /حدیث 399"میں روایت کی گئی ہے :::
    اور سب کی سند کا مشترکہ سلسلہ ، مدار ، مرکز درج ذیل ہے ::::::
    :::عبداللہ بن محمد بن عمر بن علی (بن ابی طالب )، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں اور وہ کُریب مولیٰ ابن عباس سے :::
    [[[ اِس حدیث کو ضعیف کا حکم دِیا گیا ہے ، کیونکہ اِس کی سند میں عبداللہ بن محمد اور اُس کا باپ محمد بن عمر دونوں کو مجہول الحال کہا گیا ہے ، جیسا کہ إمام ابن القیم " زاد المعاد 78/2"میں لکھتے ہیں ۔عادل]]]
    """ اور اِس حدیث کی صحت کے بارے میں شک ہے کیونکہ یہ محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب کی روایت ہے ، اور اِس کی بیان کردہ کئی حدیثوں کو مُنکر کہا گیا ہے ، جیسا کہ عبدالحق الاشبیلی نے " الاحکام " میں جُریج کی روایت کہ عباس بن عبداللہ بن عباس نے اپنے چچا الفَضل بن عباس کے ذریعے بیان کیا کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم عباس کو ملنے کے لیے ہمارے بادیہ میں آئے (
    [[[ اِس روایت کی سند میں یہی محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب ہے ، تو إمام عبدالحق الاشبیلی نے اِس روایت]]] کا ذِکر کرتے ہوئے کہا کہ :::یہ سند ضعیف ( کمزور )ہے :::
    اور (إمام )ابن القطان نے کہا ہے """یہ سند واقع ہی ضعیف ہے جیسا کہ إمام عبدالحق الاشبیلی نے کہا ہے [[[ کیونکہ اِس حدیث کی سند میں پایا جانا والے راوی ]]] محمد بن عمر [[[ بن علی بن ابی طالب ]]]کے حالاتِ زندگی کا کُچھ پتا نہیں ملتا ::::: پھر ابن القطان نے اس محمد بن عمر (بن علی بن ابی طالب ) کی اُم سَلَمہ (رضی اللہ عنہا )کے ذریعے ہفتے اور اِتوار کو روزہ رکھنے والی حدیث (جِس کی تحقیق کرتے ہوئے ہم یہ سب باتیں نقل کر رہے ہیں ) کا ذِکر کرتے ہوئے کہا """ عبدالحق الاشبیلی اِس حدیث کے صحت کے بارے میں خاموش رہے ، گویا کہ وہ اِس کو دُرست جانتے ہیں ، اور اِس کی سند میں محمد بن عمر (بن علی بن ابی طالب ) ہے ، جِس کے حالاتِ زندگی کا ہی پتہ نہیں چلتا ، اور اِس کے ذریعے روایت کرنے والا اِس کا بیٹا عبداللہ محمد بن عمر (بن علی بن ابی طالب ) اور اِس کا حال بھی اپنے باپ کے طرح ہے[[[یعنی اِس کے حالاتِ زندگی کا پتہ نہیں چلتا]]] میرے خیال میں یہ حدیث (یعنی ہفتے اور اِتوار کو روزہ رکھنے والی حدیث )حَسَن ہے ، اور سب سے زیادہ جاننے والا اللہ ہی ہے """
    إمام الذہبی نے " المیزان228/3"میں إمام ابن القطان کے اُوپر بیان کیے اِس قول کے بارے میں لکھا """( إمام ) ابن القطان کے کہنے کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ اِس حدیث کو صحیح نہیں جانتے """
    میں ( علی بن حَسَن ) کہتا ہوں کہ یہ حدیث حَسَن کے درجے پر بھی نہیں پہنچتی ،
    ہمارے اُستاد علّامہ البانی ( رحمۃ اللہ علیہ )نے ( سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ /حدیث1099 کی تحقیق میں) بیان کیا """ (إمام )ابن القطان کے قول میں اِختلاف پایا جاتا ہے (جیسا کہ ابھی اُوپر نقل کِیا گیا ہے اور پتہ چلتا ہے کہ إمام ابن القطان نے )ایک دفعہ تو اِس مُحمد بن عُمر(بن علی بن ابی طالب )کی روایت کردہ حدیث کو حَسَن قرار دِیا ہے ، اور ایک دفعہ اِس کو ضعیف ( کمزور )قرار دِیا ہے ، اِس اِختلافِ رائے کی بنیادی وجہ یہ ہی ہے کہ اِس راوی کے حالاتِ زندگی کا پتہ نہیں چلتا ، خاص طور پر جب کہ اِس کی یہ روایت صحیح حدیث ) ہفتے کے دِن فرض روزہ کے عِلاوہ کوئی اور روزہ مت رکھو ،،،،،،،،،،،،،( کے خلاف ہے """،
    پھر إمام البانی نے مزید لکھا """ اِس سند میں ایک نُقص اور بھی ہے اور وہ یہ کہ مُحمد بن عُمر (بن علی بن ابی طالب ) کے بیٹے عبداللہ بن مُحمد بن عُمر (بن علی بن ابی طالب )کا حال بھی اُس کے باپ کی طرح ہی نا معلوم ہے ، ابن حبان نے اِسے " با اعتماد " کہا ، ابن المدینی نے اِسے " درمیانے درجے والا " کہا ، اور ابن حجر نے کہا " مقبول " کہا ، یعنی اگر اِس کی روایت کردہ حدیث کے مُطابق اگر کوئی اور صحیح حدیث ملتی ہو تو پھر اِس کی روایت قابلِ قُبول ہے ، اور اگر ایسا نہیں تو یہ راوی " لیّن الحدیث " ہے (یعنی اِس کی حدیث کمزور اور نا قابلِ قُبول ہے )، اور اِس (مندرجہ بالا اُم سَلَمہ رضی اللہ عنہا والی ) حدیث کے لیے کوئی دوسری حدیث اِس راوی کی اِس روایت کے مطابق نہیں ملتی ، لہذا یہ کمزور ہے """،
    پس یہ حدیث ضعیف ( کمزور ) ہے ۔
    [[[اور کمزور حدیث کِسی قِسم کی حُجت یا دلیل نہیں بن سکتی چہ جائیکہ اُس کو بُنیاد بنا کر کِسی صحیح حدیث کو رد کیا جائے ۔عادِل]]]
    ====================================
    اگر اس ساری تحقیق کو بھی ایک طرف ڈال دیا جائے اور وقتی طور پر ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت کو صحیح مان لیا جائے ، تو بھی """ اذا تعارض الفعلُ القولَ ، یوخذ بالقول و یترک الفعل """ کیونکہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے کسی حکم مبارک میں سے کسی کے لیے کسی تخصیص کا یقین کسی اور صحیح نص کے ذریعے میسر نہ ہو وہ حکم مبارک ساری امت کے لیے عام ہوتا ہے ، امر ہو یا نہی، اور ان صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا فعل اگر اس قول کے خلاف ثابت ہوتا ہو تو وہ فعل ان کے لیے خاص ہوتا ہے ، نہ کہ ان کے حکم میں سے کوئی تخصیص کرنے والا اور نہ ہی اس حکم کو منسوخ کرنے والا ،
    فاعتبروا یا اولو الابصار ، و السلام علیکم ۔

  14. مندرجہ ذیل 2 صارفین نے عادل سہیل کا اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے:


+ موضوع کا جواب بھیجیں

موضوع سے متعلق معلومات

اس موضوع کو ملاحظہ کرنے والے اراکین

اس وقت 1 اراکین اس موضوع کو دیکھ رہے ہیں. (0 اراکین اور 1 مہمانان)

     

Bookmarks

Bookmarks

آپ کے اختیارات بسلسلہ ترسیل پیغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں