السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ، الحمد للہ و لہ الکمال و العِصمۃ للأنبیاء علیھم السلام ،
کمال اللہ کے لیے ہی ہے اور عِصمت انبیاء علیھم السلام کے لیے ،
سھو ہر انسان سے ہونا عین ممکن ہے ،
جزاک اللہ خیرا بھائی رفیق طاہر صاحب کہ آپ نے میرے لکھے ہوئے کو سھو سے تعبیر فرمایا ، لیکن الحمد للہ ، ثُم الحمد للہ ، ثُم الحمد للہ اس موضوع میں بھی مجھے اللہ نے کسی سھو کے سرزد ہونے سے محفوظ رکھا ہے ،
محترم بھائی رفیق طاہر صاحب ، اللہ تبارک و تعالیٰ کے اپنے اِس ضعیف بندے پر ان گنت انعامات ہیں ، جن کا میں اپنی زندگی کے ہر لحظے میں شکر ادا کرتا رہوں تو بھی ادا ہونے والا نہیں ،
ان انعامات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ میں دین کے بارے کوئی بھی بات اپنی ز ُبان یا قلم سے ادا کرنے سے پہلے ، اس کے بارے میں اللہ کے عطاء کردہ تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے چھان بین کرلیتا ہوں ،
کئی سال پہلے ہفتے کے دن نفلی روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں امام ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ کے ایک شاگرد رشید شیخ علی بن حسن حفظہ اللہ کے ساتھ ہماری کافی بحث ہوئی تھی ، وہ اس وقت حج کے لیے اردن سے تشریف لائے تھے اور جدہ میں کچھ دیر کے لیے ہمارے ایک استاد کے گھر رکے تھے ، اس سال یوم عرفات کا روزہ ہفتے کو آ رہا تھا ، اور اس وجہ سے ہم سب طالب علموں کے درمیان کافی بحث چل رہی تھی ، روزہ رکھنے کے موافیقن نے شیخ علی سے بحث کی ان کے جوابات کے بعد وہ سب مطمئن ہو گئے کہ ہفتے کا نفلی روزہ نہیں رکھا جا سکتا ،
شیخ علی نے اپنی واپسی کے بعد اس موضوع پر ایک مختصر اور جامع کتاب نشر کی ، میں نے جنوری 2004 میں اس کتاب کا ترجمہ کیا اور اپنی ای میلز کے جواب میں وارد ہونے والی بحث اور زبانی گفتگو کی روشنی میں اس میں کافی اضافے کیے ،
آپ کی لکھی ہوئی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث کے بارے میں بھی اس میں جواب موجود تھا ، وہاں سے جوں کا توں یہاں نقل کر رہا ہوں ،
اس میں میں نے اپنی بات ]]] [[[ میں ظاہر کی ہے اور آخر میں اپنا نام بھی لکھا ہے ، باقی بات شیخ علی بن حسن حفظہ ُ اللہ کی ہے ،
اللہ تبارک و تعالیٰ تمام قارئین کے لیے خیر کا سبب بنائے ، اور ہم سب کو درست بات کسی ضد کے بغیر ماننے اور اپنانے کی ہمت دے ،
=========================
(3) أبو ہُریرہ (رضی اللہ عنہ ُ ) کی روایت ( اور اِن دونوں روایات کی تخریج صفحہ نمبر ۴۶ ، ۴۷ پر بیان کی جا چکی ہے ، [[[یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں اور لے دے کے یہ ہی دو حدیثیں ایک طاقتور مخالفت کا تصور پیدا کرتی ہیں ، اِس مسئلے کے حل کو مکمل طور پر جاننے کے لیے وقتی طور پر یہ مان لیا جائے کہ واقعتا یہ دونوں حدیثیں ممانعت والی حدیث کی مخالف ہیں تو بھی]]]، ان دونوں حدیثوں میں سے زیادہ سے زیادہ ہفتے کا نفلی روزہ رکھنے کا جواز ہی نکلتا ہے اور کچھ نہیں ،
[[[ زیادہ واضح الفاظ میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ ’’’’ اِن أحادیث میں زیادہ سے زیادہ ہفتے کو نفلی روزہ رکھنے کا جواز ، یا اِجازت ہے اور وہ بھی اُس کے لیے جِس نے صرف جمعہ کا نفلی روزہ رکھا ہو ، تا کہ وہ صرف جمعہ کے نفلی روزے کی ممانعت کی خلاف ورزی کے گناہ کا شکار ہونے سے بچ جائے ، اور اِس جواز کو مجرد ہفتے کی شمولیت پر ہی نہیں چھوڑا گیا بلکہ ہفتے اور جمعرات میں سے کوئی ایک دِن أختیار کرنے کی اِجازت دِی گئی ہے ، یعنی ہفتے کے دِن کا روزہ رکھنے کا جواز مشروط ہے اور شرط ہے کہ اُس سے پہلے جمعے کا روزہ رکھا گیا ہو ‘‘‘‘ اور یہ جواز برقرار رہے گا یا نہیں اور جواز اور ممانعت کی صورت میں کیا أختیار کیا جائے گا اِن باتوں کی تفصیل اِن شاء اللہ آگے آئے گی ، لیکن بہتر محسوس ہوتا ہے کہ آگے چلنے سے پہلے ہم علم الأصول میں مقرر شدہ قوانین کے مطابق یہ سمجھ لیں کہ شرط کیا ہے ؟
""" شرط""" علم أصول میں أحکام وضعیہ میں شمار ہوتی ہے ، میں اپنے جیسے طالب علموں کے لیے یہاں """ شرط کی تعریف نقل کرتا ہوں تا کہ ہمارے لیے فائدہ مند ہو اور اِس یا اور کِسی مسئلے کو سمجھنے میں ہمارے لئیے مدد گار ہو ، باِذن اللہ تعالیٰ ، إمام الشوکانی ، ’’’ ارشاد الفحول ‘‘‘ میں لکھتے ہیں کہ :::
""""" و الشرط : ھو الحُکم علی الوصف بکونہِ شرطاً للحُکم ، و حقیقۃُ الشرط :: ھو ما کان عدمہ ُ یستلزم عدم الحُکم فھو وصفٌ ظاہرٌ مُنبضطٌ ، یستلزمُ ذلک أو یستلزم عدم السبب ، لحکمۃ فی عدمہِ ، تنافي حکمۃ الحُکم أو السبب ، ،،،،،،"""""
( الفصل الثانی مِن مقدمۃ الکتاب )
منقولہ بالا عبارت کا ترجمہ""""" شرط ::: وہ حُکم ہے جِس کی موجودگی کِسی (کام یا )حُکم کے قائم ہونے کے لیے ضروری ہے ، اور اِسکی حقیقت یا تفصیل یہ ہے کہ شرط وہ ہے جِس کا معدوم ہونا حُکم کے معدوم ہونے کو لازم کرتا ہے ، پس شرط ظاہری وصف ہے جو یا تو حُکم کو لازم کرتا ہے یا حُکم کے سبب کو معدوم کرتا ہے (یعنی حُکم کو زائل کر تا ہے ) کیونکہ اِسکی حکمت یہی ہے کہ وہ حُکم یا سبب حُکم کی حکمت کی نفی کرتا ہے """""
اور اِس ممانعت والی حدیث کے اِلفاظ ((((( إِلّا فِیما اُفترض علیکم:::سوائے اُس کے جو تُم پر فرض کیا گیا ہے ))))) سے شرط معدوم ہوتی ہے لہذا حُکم بھی معدوم ہو جاتا ہے ، کچھ تفصیل آگے إمام ابن القیم رحمہُ اللہ کے ایک قول میں آئے گی اِن شاء اللہ ۔ تو بہر صورت یہ بات یقینی ہے کہ اُم المؤمنین جویریہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا اور أبو ہُریرہ رضی اللہ عنہ ُ والی دونوں أحادیث(حدیثیں )ہفتے کو نفلی روزہ رکھنے کے مشروط جواز سے زیادہ اِس موضوع پر کچھ اور دلیل نہیں رکھتی اور ہفتے کو نفلی روزہ نہ رکھنے والی حدیث میں ممانعت بنص صریح و قولی اور عام ہے ۔
اب ہم اِس موضوع کی طرف آتے ہیں کہ اگر کِسی کام کے بارے میں جواز اور ممانعت دونوں ہی حُکم صحیح سندوں کے ساتھ ملتے ہوں تو اِس صورت میں جواز اور ممانعت میں سے کِس کو أختیار کیا جائے گا اور اُس پر عمل کیا جائے گا ،
فقہ کے قواعد و أصول میں یہ مقرر ہے کہ ’’’ اِذا تعارض الحاضرُ المبیحَ فلیؤخذ الحاضر و یُترَک المبیح ‘‘‘ یعنی ’’’ اگر ممانعت کا حُکم اور جواز کا حُکم ایک دوسرے سے ٹکراتے ہوں تو ممانعت والے حُکم پر عمل کیا جائے گا اور جواز والے کو ترک کر دیا جائے گا ‘‘‘اِس أصول کی دلیل رسول الل صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ایک حدیث مبارک ہے ، جِس کا ذِکر ابھی چند سطر کے بعد کِیا جائے گا اِن شاء اللہ ۔ عادِل [[[
چونکہ (اُم المؤمنین) جویریہ بنت الحارث (رضی اللہ عنہا ) اور أبو ہُریرہ (رضی اللہ عنہ ُ ) والی دونوں أحادیث میں زیادہ سے زیادہ ہفتے کو نفلی روزہ رکھنے کا جواز ہی ملتا ہے ، تو ایسی صورت میں جواز پر عمل نہیں کیا جائے گا بلکہ ممانعت پر عمل کیا جائے گیا ،
کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے حُکم دِیا ہے کہ((((( إِذا أمرتُکُم بِأمر ٍ فأتوا مِنہ ُ ماأستطعتُم ، و إِذا نھیتُکُم عَن أمر ٍ فأنتھوا ::: جب میں تمہیں کوئی کام کرنے کا حُکم دوں تو اپنی طاقت و قدرت کے مطابق اُس پر عمل کرو اور جب میں تمہیں کِسی کام کے کرنے سے منع کروں تو اُسے کرنے سے باز آ جاؤ )))))عن أبی ہُریرہ ، صحیح البخاری ، حدیث 7288 ، صحیح مسلم ، حدیث1377،
[[[ اِس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ألفاظ ہمیں صاف صاف سمجھا رہے ہیں کہ ممانعت کے حُکم (نہی) میں کوئی أختیار نہیں ، اُس پر عمل کرنا ہی کرنا ہے اور منع شدہ کام سے باز آنا ہی ہے اِس میں اپنی أستطاعت (طاقت و قدرت )کے مطابق عمل کرنے کی بھی گنجائش نہیں جیسا کہ کِسی کام کو کرنے کے حُکم ( أمر )پر عمل کرنے میں اپنی أستطاعت کے مطابق کرنے کی نرمی دی گئی ہے ،
تو کیا صاف صریح ممانعت مشروط جواز اور أختیار کے خلاف ہوتی ہے ؟ ہر گِز نہیں ، أختلاف أحادیث میں نہیں بلکہ اپنے فہم میں ہے یا یہ کہیے کہ اپنے محدود فہم میں ہے ، اور جب کوئی أختلاف نہیں تو پھر ناسخ اور منسوخ کی طرف دوڑ لگانے کی قطعا ً کوئی ضرورت نہیں جیسا کہ علم الاصول میں مقرر ہے ۔ عادِل ]]]
ممانعت کے حُکم (نہی) کو کام کرنے کے حُکم ( أمر )پر فوقیت دینا صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی ثابت ہے ، إمام الطیالسی اپنی مُسنَد میں روایت کرتے ہیں کہ """"" عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے کِسی نے پوچھا کہ اگر کوئی جمعہ کو روزہ رکھنے کی منّت (نذر )مان لے تو اُسکا کیا حُکم ہے ؟ ،
تو عبد اللہ رضی اللہ عنہ ُ نے جواب دِیا ((((( ہمیں منّت ( نذر ) پوری کرنے کا حُکم دِیا گیا ہے اور جمعہ کا روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے ))))) ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اِس جواب سے صاف ظاہر ہے کہ وہ ممانعت کے حُکم (نہی)کو کام کرنے کے حُکم ( أمر )پر فوقیت دے رہے ہیں کیونکہ نہی میں کوئی أختیار نہیں ۔
[[[لہذا اِن أحادیث میں جو أختلاف نظر آتا ہے وہ صرف اور صرف جمعہ کے نفلی روزہ کے ساتھ ملائے جانے والے دِن کے أختیار میں ہے ، یعنی ، جمعہ کے دِن کا نفلی روزہ رکھنے والا اپنے اِس روزے کے ساتھ کون سا دِن ملا سکتا ہے ، اور یہ بات حُکم رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے واضح ہو چکی کہ ممانعت کے حُکم (نہی)میں کوئی أختیار نہیں تو پھر جمعہ کا نفلی روزہ رکھنے والے کے لئیے فقط جمعرات کا أختیار ہی باقی رہتا ہے ۔
گو کہ اِس وضاحت کے بعد مزید کِسی بات کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی لیکن کچھ شبہات کا جواب دینا اِن شاء اللہ بہتر ہو گا کیونکہ ممکن ہے کِسی پڑہنے والے کے ذہن میں’’’تخصیص مِن العام ‘‘‘ یا ’’’ حمل المطلق علی المقید ‘‘‘ یا ’’’ الاستثناء مِن الجِنس ‘‘‘ یا ’’’أستدلال مِن المنطوق أو مِن المفہوم ‘‘‘ یا ’’’ راجح و المرجوح ‘‘‘ جیسے قواعد کی بنا پر کچھ خیالات یا شبہات آئیں ، تو پیشگی عرض ہے کہ ،
ان أحادیث پر ’’’ تخصیص مِن العام ‘‘‘ یا ’’’ حمل المطلق علی المقید ‘‘‘ یا ’’’ الاستثناء مِن الجِنس ‘‘‘ کی بحث وارد نہیں ہوتی ہاں ایک اور شبہہ وارد ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ ’’’ ہفتے کے روزے کی ممانعت جمعہ کے روزے جیسی ہے ، پس اگر ہفتے کے ساتھ کوئی اور دِن ملا لیا جائے تو ممانعت نہیں رہتی ‘‘‘
إمام ابن القیم رحمہ ُ اللہ ’’’ تھذیب السنن ‘‘‘ میں اِس مندرجہ بالا شبہے کا ذِکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’’’یہ بات بڑی اچھی ہوتی اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا قول ((((( لاتصوموا یومَ السبت اِلَّا فیمَا افتُرض َعلیکُم ::: ہفتے کے دِن کا روزہ مت رکھو ، سوائے فرض روزے کے ))))) نہ ہوتا ، یہ قول صاف منع کرتا ہے کہ ہفتے کے دِن کا نفلی روزہ نہیں رکھا جائے گا ، أکیلا یا کِسی اور دِن کے ساتھ مِلا کر ، کیونکہ فرض روزے کی شرط اِس بات کی دلیل ہے کہ سوائے فرض روزے کے ہر روزہ ممنوع ہے ، اگر ممانعت صرف أکیلے ہفتے کے روزے کی ہوتی اور کِسی اور دِن کو ساتھ مِلانے سے یہ ممانعت دور ہونے والی ہوتی تو پھر حدیث کے ألفاظ یوں ہوتے ((((( لاتصوموا یومَ السبت اِلَّا أن تصوموا یوماً قبلہ ُ أو یوماً بعدہ ُ ))))) جیسا کہ جمعہ (کے أکیلے ر وزے ) کی ممانعت والی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا ہے ، لیکن جب (ہفتے کو روزہ رکھنے کی ) أجازت صرف فرض روزے کے لئیے دی گئی ہے تو یہ بالکل واضح ہو گیا کہ فرض روزے کے عِلاوہ ہر روزے پر یہ نہی لاگو ہوتی ہے ‘‘‘‘
ممکن ہے منطوق و مفہوم کی بحث میں داخل ہو کر کِسی حد تک یہ کوشش کی جائے کہ ہفتے کو نفلی روزہ رکھنا ممنوع نہیں تو اِس کے جواب میں کچھ کہنے سے پہلے میں آپ کے سامنے منطوق و مفہموم کی تعریف نقل کرتا ہوں ، إمام محمد بن علی بن محمد الشوکانی رحمہ ُ اللہ ’’’ اِرشاد الفحول ‘‘‘ میں لکھتے ہیں:::::
""""" فالمنطوق ُ :: ما دلّ علیہ اللفظُ فی محل النُّطق ، أي : یکونُ حُکماً للمذکورِ و حالاً مِن أحوالِہِ ، والمفھُوم : ما دلَّ علیہِ اللفظُ لا فی محل النُّطق ،أي : یکونُ حُکماً لغیر المذکورِ و حالاًً مِن أحوالِہ ِ والحاصلُ أن الألفاظُ قوالبُ للمعانی المستفادۃ منھا ، فتارۃً تُستفادُ مِنھا مِن جھۃ النُّطق تصریحاً و تارۃً مِن جھتہِ تلویحاً ، فالأولُ :: المنطوق ُ ، و الثاني ::: المفھوم ::: (الباب الثامن مِن المقصد الرابع )
مندرجہ بالا عبارت کا ترجمہ ::: منطوق وہ ہے ::: جِس پر کوئی لفظ اپنے بولے جانے کی بنا پر ظاہر و صریح دلالت کرتا ہو ،، یعنی ،، منطوق میں جِس کا ذِکر ہوتا ہے وہ اُس مذکور (ذِکر شدہ چیز )کے لیے کوئی حُکم رکھتا ہے ،، یا ،، اُس مذکور کے أحوال میں سے کِسی حال کو ظاہر کرتا ہے ، اور مفہوم ::: وہ ہے ::: جِس پر کوئی لفظ اپنے بولے جانے کی بنا پر کوئی ظاہر و صریح دلالت نہ کرتا ہو ،، یعنی ،، مفہوم بولے جانے والے لفظ میں مذکور ( ذِکر شدہ چیز ) کے عِلاوہ کِس اور کیے لیے حُکم رکھتا ہے ،، یا ،، اُس مذکور کے عِلاوہ کِسی اور کے أحوال میں سے کِسی حال کو ظاہر کرتا ہے ،
حاصلِ کلام ::: الفاظ اپنے اندر پائے جانے والے معانی(معنی کی جمع )کے لیے سانچے کی حیثیت رکھتے ہیں لہذا الفاظ میں سے جو معانی حاصل کئیے جا تے ہیں ، کبھی تو وہ معانی صریح نطق (بات ، لفظ کی آواز ، کِسی لفظ کو سن کر جو معنی ذہن میں آئے ) سے حاصل کیا جاتا ہے ، اور کبھی دوسرے طور ،، یعنی ،، اِشارۃ ً ، تو پہلی قِسم ہے منطُوق ،،، اور دوسری قِسم ہے مفہوم ،،، """""
مندرجہ بالا تعریف کی روشنی میں یہ جاننا قطعاً مشکل نہیں کہ ہفتے کے دِن کا نفلی روزہ رکھنے کی ممانعت والی حدیث میں ممانعت صراحت کے ساتھ منطُوق ہے اور حدیث اُم المؤمنین جویریہ اور حدیث أبو ہُریرہ رضی اللہ عنھما میں جو مشروط جواز ہے وہ منطُوق نہیں بلکہ مفہوم سے مأخوذ ہے ، اور کِسی مسئلے پر حُکم منطُوق کے مطابق ہوتا ہے ، مفہوم سے مأخوذ نہیں ، جیسا کہ إمام شمس الدین الذہبی ’’’ مختصر سنن البیہقی ‘‘‘ میں کہتے ہیں :::
’’’’ والإستدلال ُ بالمفھومِ لا یَکُون ُ حُجّۃً إِلَّا إِذا سَلِمَ مِن المعارض ‘‘‘ یعنی ’’’ مفہوم کو اُسی صورت میں دلیل بنایا جا سکتا ہے جب کہ اُس کی مخالفت نہ ہو ‘‘‘،
اب آپ خود ہی بتائیے کہ آپ قواعد و أصول کی روشنی میں صریح منطُوق کے مطابق معاملے کو سمجھیں گے یا مخالف مفہوم کے مطابق ،
جب دو مخالف نصوص میں جمع (اتفاق )نہ ہو سکے ، تو پھر ناسخ و منسوخ کی طرف جایا جاتا ہے ، اور اگر ناسخ و منسوخ کا تعین بھی نہ ہو سکے تو پھر اُس کے بعد دونوں مخالف نصوص میں سے راجح اور مرجوح کا تعین کیا جاتا ہے اور اِس کے لیئے علماء أصول نے بہت سے قواعد مقرر کر رکھے ہیں ،
ہمارے اِس موضوع میں تو الحمدُ للہ پہلے مرحلے پر ہی اِن بظاہر مخالف نصوص میں جمع (اتفاق )ہو گیا لہذا ہمیں ناسخ و منسوخ یا راجح و مرجوح کی طرف جانے کی ضرورت نہیں ،
لیکن ،،،،،،، باذن اللہ مزید تسلی و تشفی کے لئیے اُن قواعد میں سے صرف ایک کا ذِکر کرتا چلوں ، ’’’’أن یکون أحد الحدیثین قولاً و نصاً و الآخرُ یُنسَبُ إِلیہِ استدلالاً و إجتھاداً ، فَیَکُون ُ الأول ُ مُرجحاً ::: اور یہ کہ دو (متعارض )حدیثوں میں سے ایک اگر قولی اور نصی یعنی لفظی طور پر صراحت کے ساتھ کِسی حُکم کی حامل ہو ، اور دوسری سے محض اِجتھاد کی بنیاد پر استدلال کیا جاتا ہو ، تو ایسی صورت میں پہلی والی کو ترجیح دی جائے گی ، کیونکہ وہ واضح قول و نص پر مبنی ہے ‘‘‘‘‘
مزید تفصیلات کے لیئے ملاحظہ فرمائیے ’’’’ ارشاد الفحول الیٰ تحقیق الحق فی علم الأصول ‘‘‘ للإمام الشوکانی ، ’’’ الجامع لمسائل أصول الفقہ ‘‘‘ للأستاذ، الدکتورعبدالکریم بن علی بن محمد النملۃ ۔ عادل ]]]
======================
بھائی رفیق طاہر صاہر صاحب ، کتاب و سنت ڈاٹ کام کے فورمز میں عید کے مسائل والے تھریڈ میں آپ نے میری ایک تجویز کو شرف قبولیت عنایت فرمایا ہے امید ہے آپ کا یہ اعتراض اس سے پہلے نشر ہوا ہو گا ،
مزید گفتگو کے لیے ان شاء اللہ ذاتی ای میل پر رابط رکھیں گے ، آج ہماری عید کی چھٹیوں کا آخری دن تھا ، لہذا اب یوں بھی انٹر نیٹ پر آمد و رفت کم اور کم وقت کے لیے رہے گی ، الی ما شاء اللہ ، و السلام علیکم-
Bookmarks